قول و قسم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عہد و پیمان، اقرار مدار، قسما قسمی۔  ہوتے ہیں آج یہ قول و قسم بروقت نہ کچھ کام آئیں گے جب دل میں بدی آ جائیگی الزام لگائے جائینگے      ( ١٩٥١ء، آرزو، ساز حیات، ٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قول' کے ساتھ اردو حرف عطف 'و' لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'قسم' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٦١ء میں ناطق کی "چمنستان شعرا" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر